بھوپال،29؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)مدھیہ پردیش کے بھوپال حلقہ انتخاب سے کانگریس کے امیدوار دگوجے سنگھ نے بی جے پی کی منافرت بھری سیاست پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے اس ملک پر 800سالوں تک راج کیا لیکن کسی مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا پھر آج ہندو دھرم خطرے میں کیسے پڑ گیا!دگوجے سنگھ نے اس دوران اپنی حریف اور بی جے پی کی امیدوار پرگیہ سنگھ ٹھاکر پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو شراپ (بددعا) دے دیتی تو سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی-گزشتہ روز راجدھانی بھوپال میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا، ”پرگیہ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو شراپ دیا تھا- اگر وہ پاکستان میں واقع دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو بھی شراپ دے دیتیں تو اس کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی-“دگوجے سنگھ نے مزید کہا کہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی بھائی بھائی ہیں - یہ لوگ (بی جے پی) کہتے ہیں کہ ہندوؤں کو یکجا ہو جانا چاہئے کیوں کہ وہ خطرے میں ہیں لیکن ملک میں مسلمانوں نے 800 سالوں تک حکمرانی کی پھر بھی کسی مذہب کو کوئی نقصان نہیں ہوا- انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے محتاط رہیں جو دھرم بیچتے ہیں -دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کانگریس کے سینر رہنما دگوجے سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر دہشت گرد نرک (دوزخ) میں بھی چھپے ہوں گے تو ان کو بخشا نہیں جائے گا- دگوجے سنگھ نے پوچھا کہ ملک میں جب پلوامہ، پٹھان کوٹ اور اْڑی میں حملے ہوئے تھے تب وہ کہاں تھے؟ تب وہ اس طرح کے حملوں سے نجات پانے میں اہل کیوں نہیں تھے؟-دگوجے سنگھ نے مزید کہا کہ بھوپال سے ان کی امیدواری کا اعلان ہوتے ہی ماما (شیو راج سنگھ چوہان) گھبرا گئے- اوما بھارتی نے چناؤ لڑنے سے انکار کر دیا- گورنر نے طبیعت خراب ہونے کا بہانا بنا لیا- انہوں نے کہا کہ جبھی کاغذات نامزدگی داخل ہونے کی آخری تاریخ سے عین ایک روز قبل پرگیہ ٹھاکر کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا گیا-لیکن ہندوستان جمہوری ملک ہے،یہاں کے لوگ سکیولر ہیں، یہاں فرقہ وارانہ سیاست نہیں چلنے والی ہے-دوسری جانب ہریانہ کے سونی پت لوک سبھا حلقہ انتخاب سے کانگریس کے امیدوار اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نظریاتی طور پر کسان اور غریب مخالف ہے، یہی وجہ ہے کہ 5 سال میں ایک بھی پالیسی ایسی نہیں بن سکی جو کسانوں کے مفاد میں ہو-بھوپندر ہڈا نے ہریانہ میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے آئین پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے، اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ سب مل کر اس صورت حال سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کریں - اگر اس بار بی جے پی کو نہیں روکا گیا تو ملک کے آئینی اداروں کو بڑا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے-انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات میں ایک مقصد کے ساتھ آئے ہیں اور یہ مقصد اس وقت پورا ہوگا، جب اس علاقہ کے لوگ آگے آکر ان کا ساتھ دیں گے-انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی نے اقتدار میں آنے سے پہلے 154 وعدے کئے تھے لیکن ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا- کسان کا قرض معاف نہیں ہوا اور نہ ہی روزگار کے مواقع پید اہو سکے- اسی طرح کسی کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے بھی نہیں آئے- انہوں نے دہرایا کہ کانگریس نے ماضی میں بھی کسانوں کے سارے قرض معاف کئے تھے- اگر دوبارہ عوام نے اسے موقع دیا، تو کسان کے قرض دوبارہ معاف کئے جائیں گے- ہر غریب خاندان کو سالانہ 72 ہزار روپے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزار سکے-